191

افغان فوج کو طالبان کیساتھ لڑنے کے احکامات ہی نہیں دیئے گئے، سابق افغان آرمی چیف کے ہوشرباانکشافات

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) کرپشن اور سیاسی مداخلت نے افغان فوج کو برباد کیا۔سابق افغان آرمی چیف نے بتایا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ فوج لڑنا نہیں چاہتی تھی بلکہ انہیں لڑنے کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا۔جنرل ریٹائرڈ کریمی نے تر ک نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ افغان سیاست دان تمام عسکری معاملات میں ملوث ہیں، فوج میں تقرریاں بھی سیاست دانوں کی مرضی سے ہوتی تھیں۔واضح رہے کہ طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے سے قبل افغان آرمی چیف آف سٹاف ولی محمد احمد زئی کو عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔سابق افغان صدر اشرف غنی نے جنرل ہیبت اللہ علی زئی کو افغان فوج کا نیا چیف مقرر کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ شیر محمد کریمی نے افغان فورسز سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہاہے کہ افغان فوج کو لڑنے کے احکامات ہی نہیں دئیے گئے تھے، کرپشن اور سیاسی مداخلت نے افغان فوج کو برباد کیا۔ترک نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران افغانستان کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ شیر محمد کریمی نے انکشاف کیا کہ افغان فوج کو لڑنے کے احکامات ہی نہیں دئیے گئے تھے، کرپشن اور سیاسی مداخلت نے افغان فوج کو برباد کیا۔سابق افغان آرمی چیف نے بتایا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ فوج لڑنا نہیں چاہتی

تھی بلکہ انہیں لڑنے کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا۔جنرل ریٹائرڈ کریمی نے کہا کہ افغان سیاست دان تمام عسکری معاملات میں ملوث ہیں، فوج میں تقرریاں بھی سیاست دانوں کی مرضی سے ہوتی تھیں۔دوسری جانب افغانستان کے ایک مقتول باغی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے شمالی افغانستان کے صوبے بغلان کے 3 اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پچھلے کچھ دنوں میں شائع ہونے والے مضامین میں احمد مسعود نے وادی پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت پر زور دیا اور بین الاقوامی مدد بالخصوص امریکا سے ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔اس کے علاوہ ٹویٹر پر سرگرم کارکنوں نے ایسی ویڈیوز نشر کیں جن میں مزاحمتی گروپ کے زیر کنٹرول علاقوں کی عمارتوں میں سے ایک پر افغان جھنڈا بلند کرنے اور طالبان کے جھنڈے کو ہٹانے کو دکھایا گیا۔اس کے علاوہ سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے طالبان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کااعلان کیا اور وادی پنجشیر چلے گئے۔سوشل میڈیا پر احمد مسعود اور امراللہ صالح کی تصاویر منظرعام پر آئیں جس میں انہیں طالبان کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا اعلان کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔طالبان کبھی بھی پنجشیر وادی کو کنٹرول نہیں کر سکے کیونکہ اس وادی تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت افغان دارالحکومت کابل کے قریب وادی پنجشیر میں منظم کی گئی ہے جہاں اس کی قیادت دو اہم شخصیات سابق نائب صدر امر اللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں