212

سعودی عرب نے پاکستان میں لگائی جانے والی دو ویکسین کی منظوری دیدی ، پاکستانیوں کی لئے بڑی خوشخبری

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب نے سائنو ویک اور سائنو فارم ویکسین کی منظوری دیدی ۔ پاکستان کے
نجی ٹی وی کے مطابق سائنو ویک اور سائنو فام کے ساتھ منظور شدہ ویکسین کی تیسری خوراک لینا ہو گی ۔سائنو فام اور سائنو ویک کی 2 ڈوز لگوانے والے سعودی عرب آ سکتے ہیں لیکن بوسٹر ڈوز بھی لگوانا ہو گی ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان سے سعودی عرب جانے والے مسافروں کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ پاکستان میں لگائی جانے والی تمام ویکسین سعودی عرب میں منظور شدہ نہیں تھیں جس کے باعث بہت سے لوگوں کو سعودی عرب جانے کیلئے دوبارہ سے ویکسی نیشن کروانا پڑ رہی تھی ۔

۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک تحقیق میں چین کے صوبے گوانگزو میں ڈیلٹا کی وبا کی روک تھام کے حوالے سے چینی کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسینز علامات والی بیماری سے بچا ئوکے لیے 59 فیصد تک موثر ثابت ہوئیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی ویکسین کی 2 خوراکوں سے بیماری کی معتدل علامات سے 70.2 فیصد تحفظ ملا جبکہ سنگین علامات کی روک تھام میں ان کی افادیت 100 فیصد رہی۔یہ حقیقی دنیا میں کورونا کی قسم ڈیلٹا کے خلاف چینی کمپنیوں کی ویکسینز کی افادیت کا پہلا ڈیٹا قرار دیا جارہا ہے۔یہ تحقیق گوانگزو میں 18 مئی سے 20 جون کے دوران وبا کے 153 مصدقہ کیسز اور 475 قریبی کانٹیکٹس کے ڈیٹا پر مبنی تھی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی کمپنیوں کی ویکسینز ڈیلٹا قسم کی روک تھام کے لیے اب بھی موثر ہیں۔تحقیق میں جن کیسز کا ڈیٹا دیکھا گیا ان میں سے 105 میں علامات کی شدت معتدل تھی جبکہ 16 کو سنگین علامات کا سامنا ہوا۔تاہم جن مریضوں کو سنگین علامات کا سامنا ہوا ان کی ویکسینیشن نہیں ہوئی تھی۔تحقیق میں شامل افراد میں 61.3 فیصد نے سائنوویک ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کی تھیں جبکہ 27.5 فیصد نے سائنوفارم ویکسین استعمال کی تھی۔10.4 فیصد افراد نے دونوں کمپنیوں کی ویکسینز کے امتزاج کو استعمال کیا تھا۔تحقیق میں محدود نمونوں کی بنیاد پر یہ بھی دریافت کیا گیا کہ سنگل شاٹ ویکسینز کی افادیت کووڈ 19 کی روک تھام کے حوالے سے محض 14 فیصد تھی۔تحقیق کے مطابق 2 خوراکوں والی چینی ویکسینز مردوں کے مقابلے میں خواتین میں بیماری کے خلاف زیادہ موثر ہیں۔ان ویکسینز کے استعمال سے مردوں میں بیماری کی معمولی روک تھام کی شرح 70.4 فیصد جبکہ خواتین میں 79.1 فیصد دریافت کی گئی۔دوسری تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے ہوئی جس میں انہوئی زیفی لانگ کام بائیو فارماسیوٹیکل کی تیار کردہ ویکسین کی 3 خوراکوں کے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس ویکسین کو استعمال کرنے والے افراد کے 28 سیرم نمونوں کی جانچ پڑتال سے دریافت ہوا کہ یہ ویکسین کورونا کی متعدد اقسام کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔محققین نے بتایا کہ یہ ویکسین کورونا کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے خلاف اپنی افادیت کو برقرار رکھتی ہے۔تاہم تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ ویکسین کورونا کی اقسام بیٹا اور گیما کے خلاف کم موثر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں